ہریانہ کے نوح میں تشدد پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اقتدار میں بیٹھی بی جے پی حکومت پر سوال اٹھائےہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسی حب الوطنی ہے جہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا جاتا ہے۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا کہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں امن ہو۔
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ کیسی حب الوطنی ہے جو ملک میں نفرت پھیلا رہی ہے، بھائی کو بھائی سے لڑایا جا رہاہے۔ میں شروع سے کہہ رہا ہوں کہ نفرت اور غصے سے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بھارت کو ترقی کے لیے امن کی ضرورت ہے۔ میں تمام ہندوستانیوں سے بھائی چارہ برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں، تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف ہمارے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
نوح میں پیر یعنی 31 جولائی کو ایک مذہبی یاترا کے دوران دو برادریوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور کاروں کو آگ لگا دی۔ جس کے بعد کئی مقامات پر تشدد پھوٹ پڑا۔ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے مقامی انتظامیہ نے 5 اگست تک موبائل انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروس بند کر دی ہے۔
خبر کے مطابق ہریانہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) ٹی وی ایس این پرساد نے بدھ یعنی 2 اگست کی شام ایک حکم نامے میں کہا کہ مجھے نوح، فرید آباد، پلوال اور گروگرام کے کمشنروں کی رپورٹوں کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ان کے متعلقہ اضلاع میں صورتحال اب بھی سنگین ہےاور تناؤ ہے اس لیے ہم اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز پر پابندی 5 اگست کی نصف شب تک جاری رہے گی۔