یونیفارم سیول کوڈ پر کیا موقف ہونا چاہئے؟

0
50
سید خرم رضا

سید خرم رضا

’’یہ سب جانتے ہیں کہ یہ کیوں اچھالا جا رہا ہے، مسلمانوں نے اس کو اپنی چڑ سمجھ رکھا ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں اس لئے اس کو اچھالا جا رہا ہے۔‘‘ پروفیسر اخترالواسع نے واضح الفاظ  میں کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو یکساں سیول کوڈ یعنی یونیفارم سیول کوڈ پر اپنے رد عمل کو  محتاط رکھنا چاہئے۔

پروفیسر اخترالواسع کا کہنا ہے کہ ’’یکساں سیول کوڈ  یعنی یونیفارم سیول کوڈ خالص مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ہندوستان میں موجود سبھی معتقدات کے لوگوں کا مسئلہ ہے۔ خلفشار سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو اس پر فرداً فرداً رائے دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی جانب سے  آل انڈیا  مسلم پرسنل لاء بورڈ کو رائے دینی چاہئے کیونکہ اس میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں۔‘‘

وہیں، قانون کے معروف استاد فیضان مصطفیٰ کا کہنا بھی یہی ہے کہ لوگوں کی رائے اس پر معنی نہیں رکھتی کیونکہ ’’جن انفرادی لوگوں سے رائے مانگی ہے وہ لوگ قانون کے ماہر تو ہیں نہیں!‘‘ اس میں اکثر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس وقت اس موضوع کو اٹھانے کا مقصد صرف سیاسی ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب صدر انجینئر سلیم کا کہنا ہے کہ ’’اب یہ ایک سیاسی مدعا بن گیا ہے کیونکہ وہ یعنی بی جے پی خود بھی جانتی ہے کہ ایسا قانون بنانا ممکن نہیں ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ اس کی بات کرنے سے فرقہ وارانہ پولرائزیشن ممکن ہے۔ وہ ان مدعوں کو اٹھا کر حقیقی بنیادی مدعوں سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ وہ ایسے جذباتی مدعوں کو اٹھا کر سماج کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘  پروفیسر اختر الواسع کا بھی یہی کہنا ہے کہ ’’یہ تو ہے ہی کہ یہ انتخابی مدعا ہے۔ دیکھئے لاء کمیشن نے سال 2018 میں کہا کہ یونیفارم سیول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ اشونی اپادھیائے جن کا تعلق بی جے پی سے ہے ان کی ایک مفاد عامہ کی عرضداشت کے جواب میں اسی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا  کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

انجینئر سلیم  کا کہنا ہے کہ ’’جماعت کیونکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی رکن ہے اس لئے یونیفارم سیول کوڈ پر اس کا وہی موقف ہے جو بورڈ کا ہے۔ یہ جو یونیفارم سیول کوڈ لانے کی بات کہی جا رہی ہے اس کی ہندوستان جیسے ملک میں نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کیونکہ یہ ملک کثیر تہذیبی ملک ہے اور تمام عقائد کے لوگ علیحدہ روایات سے وابستہ ہیں۔ ‘‘

کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ مدعا کبھی نہ کبھی تو آئے گا ہی کیونکہ اس کا ذکر آئین میں ہے۔ قانون کے معروف استاد فیضان مصتفی کہتے ہیں ’’میں کیونکہ دستور پڑھاتا ہوں اور جو چیز دستور میں موجود ہے اس کے تعلق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر کبھی عمل ہی نہ ہو۔ ستر سال بعد اگر آج بنانے کی بات ہو رہی ہے تو  ٹھیک ہے۔ میں نے دراصل اس کمیٹی کا خیر مقدم کیا تھا جو اتراکھنڈ میں بنائی گئی تھی اور میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ یونیفارم سیول کوڈ کے دڑافٹ کے لئے پہلے ایک ماہرین کی کمیٹی بنائی جانی چاہئے جیسا کہ ہندو قوانین میں جب اصلاحات ہوئیں تو 1941 میں ایک کمیٹی بنی اور 1956 میں قانون بنا یعنی 15 سال بعد اس نے قانونی شکل اختیار کی۔ میں نے بعد میں اتراکھنڈ کی کمیٹی کی اس لئے مخالفت کی کیونکہ اس میں کوئی پرسنل لاء کا ماہر نہیں تھا۔ اس لئے لاء کمیشن کے کسی ڈرافٹ پر مبنی قوانین نہیں بننا چاہئے کیونکہ جیسے ہندو لاء کی کمیٹی بنائی گئی تھی ویسے ہی اگر مسلم لاء میں کوئی اصلاح کرنی ہے تو  مسلم پرسنل لاء کے ماہرین کی ایک کمیٹی بننی چاہئے۔‘‘

انجینئر سلیم کا کہنا ہے کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ لاء کمیشن کو سیاسی لائن پر عمل نہیں کرنا چاہئے اور اس کو حکومت کے سیاسی موقف پر عمل کرنے میں مددگار کا کردار نہیں نبھانا چاہئے۔ گزشتہ ستر سالوں کے دوران کبھی کوئی ڈرافٹ سامنے نہیں آیا  اب لاء کمیشن نے جو رائے مانگی ہے اس پر ہم لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی رائے دیں۔ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سکھوں، قبائلیوں اور دیگر برادریوں کو بھی متاثر کرے گا۔  بی جے پی یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ صرف مسلمان ہیں جو اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور مسلمان ترقی کے خلاف ہے۔ ہندوستان میں یکساں کوڈ کو نافظ نہیں کیا جا سکتا بلکہ انصاف کے لاگو ہونے کو یقینی بنانا چاہئے۔ جماعت یونیفارم سیول کوڈ کا مسودہ دیکھنے کے بعد اس پر اپنی رائے دیگی۔ مسودہ پر پورے ملک میں تبادلہ خیال ہوگا تو ہم بھی اس پر اپنی رائے دیں گے۔‘‘

جماعت کے نمائدے کا کہنا تھا کہ ’’جیسے امریکہ اور فرانس کی مثال دی جاتی ہے تو وہ یہاں پر بھی ہے جیسے اسپیشل میرج ایکٹ  یعنی  جو اپنے مذہبی قوانین سے ہٹ کر شادی کرنا چاہتے ہیں تو ان کو پوری آزادی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں۔ سوال یہ ہے کہ یہاں اس کا نفاذ کیوں ضروری سمجھا جا رہا ہے؟‘‘

فیضان مصطفیٰ  کے خیال میں ’’حکومت کا فرض ہے کہ وہ یونیفارم سیول کوڈ لائے کیونکہ اس کے تعلق سے آئین میں کہا گیا ہے  اس کے لئے کسی بھی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہوگا اور بی جے پی کا اس پر ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ یونفارم سیول کوڈ ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس قانون کا مقصد صرف مسلم مخالفت ہے کیونکہ جب قانون بنے گا تو وہ سب پر لاگو ہوگا۔ دیکھئے خود واجپئی نے کہا تھا کہ تین معاملے یعنی بابری مسجد، آرٹیکل 370 اور یونیفارم سیول کوڈ  ہم اس وقت چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے اور جب ہماری اکثریت ہوگی تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اب ان کی اکثریت ہے تو وہ کر رہے ہیں۔  مجھے لگتا ہے کہ کوئی یہ کہے کہ بی جے پی اس سے انتخابی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تو وہ منفی دلیل لگتی ہے۔ کوئی بھی پارٹی اپنے نظریات کے نفاذ کے ذریعہ انتخابی فائدہ اٹھانا چاہتی ہو تو  کوئی اس کی تنقید کیسے کر سکتا ہے؟‘‘

فیضان مصطفیٰ نے یہ بات تسلیم کی کہ یونیفارم سیول کوڈ کا اثر مسلمانوں پر  پڑے گا۔ انہوں نے کہا ’’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے شادی، طلاق اور وراثت کے قوانین متاثر ہوں گے۔ حالانکہ اثر تو ہندوؤں پر بھی پڑے گا کیونکہ اگر ہندو جوائنٹ فیملی قانون ختم ہوگا اور اس کے ٹیکس فوائد ختم ہوں گے تو ان  پر بھی اثر پڑے گا۔‘‘

پروفیسر اختر الواسع کا مشورہ ہے کہ ’’ایک کام یہ کرنا چاہئے کہ تمام مذاہب کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس میں اس پر غور کیا جائے اور میرے خیال سے مولانا محمود مدنی کی قیادت میں اجلاس بلایا جانا چاہئے کیونکہ وہ مختلف مذاہب کے نمائندوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ دراصل تمام مذہبی معتقدات اس تعلق سے فکر مند ہیں۔‘‘

فیضان مصطفیٰ کی رائے ہے کہ ’’یونیفارمیٹی یعنی یکسانیت کوئی حتمی ہدف یا گول نہیں ہو سکتا جو قانون ہو وہ انصاف پر مبنی ہونا چاہئے۔ آج کی تاریخ  میں آئین کا آرٹیکل 14 یعنی جو مساوات کا حق ہے کسی بھی قانون کو اس سے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’مسلم علماء اور پرسنل لاء بورڈ نے صنفی قوانین کو منصفانہ بنانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔ جو دیگر مسلم ممالک کو دیکھ کر اور فقہ سے مشورہ کر کے  اندرونی طور پر جو اصلاحات ہونی چاہئے تھیں وہ نہیں ہوئیں۔ ہمیں تبادلہ خیال کرنا چاہئے کہ یونیفارم سیول کوڈ میں یہ چیزیں شامل ہونی چاہئے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ یا مسلم تنظیموں کو ان موضوعات پر ڈرافٹ پیش کرنا چاہئے جنہیں وہ اس میں شامل کرانا چاہتے ہیں۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here